نیورو سرجن کی سانسیں مریضوں کی سانسوں کے ساتھ چلتی ہیں

ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر عبدالعزیز دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے نازک اور حساس آپریشن کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالعزیز کہتے ہیں کہ ’مہربان ہونے کے لیے ظالم ہونا پڑتا ہے۔ مجھے اپنی سرجری کی تربیت کے دوران اساتذہ نے کہا تھا کہ اگر مریض پر ترس کھاؤ گے تو اس کی جان نہیں بچا سکو گے۔‘
’مریض کی جان بچانے کے لیے بے رحم ہونا پڑتا ہے۔ دماغ کی سرجری میں تو ہر مریض ہی نازک اور خطرے میں گِھرا ہوتا ہے۔ ہر آپریشن ہی حساس ہوتا ہے۔ اس طرح کے آپریشنز کے دوران آپ کی توجہ کہیں دوسری طرف کے لیے تھوڑی سی بَٹی اور ہاتھ تھوڑا سا غیر ضروری ہلِا تو انتہائی خطرناک نتائج سامنے ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نیورو سرجری میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ نیورو سرجری کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دوران شرح اموات اور شرح معذوری بہت زیادہ ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالعزیز حال ہی میں ایک مریضہ کے دماغ سے ایک خطرناک کیڑے سے بننے والے ہائڈیٹِڈ سِسٹ کی سرجری کو اپنے کیریئر کا ایک ایسا کیس سمجھتے ہیں جو ان کے اور ان کی ٹیم کے لیے انتہائی چیلینجنگ تھا۔
ان کا کہنا ہے ’گلشن (فرضی نام) نامی ایک مریضہ جب ہمارے پاس آئیں تو ان کی حالت انتہائی خراب تھی۔ وہ چل سکتی تھیں نہ ہی انھیں اپنا کوئی ہوش تھا۔ جب وہ میرے پاس آئیں تو وہ تقریباً بیہوش تھیں۔ ان کو قے ہونے کے علاوہ جھٹکے لگ رہے تھے۔‘
ڈاکٹر عبدالعزیز بتاتے ہیں کہ خاتون کی صحت کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے پر ان کے رشتے داروں نے بتایا کہ گذشتہ کچھ دنوں سے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی لیکن وہ گذشتہ تقریباً دو برسوں سے اس مرض سے لڑ رہی تھیں اور ہلنے جلنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔
’معائنے اور ٹیسٹوں کے بعد پتا چلا کہ ان کے دماغ میں ہائڈیٹِڈ سِسٹ ہے۔ ہماری ٹیم نے مشورہ کیا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ان کا آپریشن کیا جائے، کیوں کہ اس طرح کے مریض کا آپریشن کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہوتا۔ اب یہ آپریشن حساس بھی تھا، اور پُرخطر بھی۔‘
ڈاکٹر عبدالعزیز خان کا کہنا تھا ’ہم نے خاتون کو آپریشن کے لیے تیار کیا۔ اس کے لیے مریضہ کو دو، تین دن تک ہسپتال میں رکھا گیا۔ لواحقین کو خطرات سے آگاہ کیا کہ یہ ایک انتہائی حساس کیس ہے۔‘
ڈاکٹر عبدالعزیز خان کہتے ہیں ’پاکستان کیا، دنیا بھر میں بھی اس طرح کے کیس انتہائی کم تعداد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کچھ آپریشن ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے تقریباً پندرہ سالہ پروفیشنل زندگی میں ایسے صرف تین کیسز کیے ہیں۔ ان میں خطرات کا سکیل بہت بڑا ہوتا ہے۔ مریض اگر بچ بھی جائے تو کسی نہ کسی قسم کی معذوری کا خطرہ بہرحال موجود ہوتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران سِسٹ کو مکمل طور پر نکالنا ہوتا ہے اور اگر اسے نکالا نہ جائے اور معمولی نقصان بھی پہنچ جائے، یا اس کو مکمل طور پر نکالا نہ جائے تو وہ پورے دماغ میں پھیل جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز خان کا کہنا تھا کہ مریضہ کو بے ہوش کرنا بھی ایک چلینج تھا۔ ’ان کو ہمارے اینستھیزیولوجسٹ نے بے ہوش کیا تھا۔‘
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز خان کہتے ہیں کہ بہت ساری احتیاطی تدابیر کے بعد اور اینستھیزیولوجسٹ کی نگرانی میں آپریشن شروع کیا گیا۔ جن میں بے ہوشی کے ماہر ڈاکٹر (اینستھیزیولوجسٹ)، مریضہ کی ایک ایک سانس اور دل کی دھڑکن پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
’سب سے پہلے ہمارے زیرِ تربیت ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کے سر کو کھولا۔ پھر ان کی کھوپڑی کو کھولا اور اس کے اندر موجود پردے کو بھی کھولا۔ ہم سب نے ایک بار پھر اس بات کو جاننے کے لیے معائنہ کیا کہ آخر ہم نے کرنا کیا ہے اور کیسے خاتون کے مرض کے سبب اس ناسور کو نکال باہر کرنا ہے۔ اپنی پوری حکمتِ عملی تیار کر کے ہم نے آگے بڑھنا شروع کر دیا۔‘
پروفسیر ڈاکٹر عبدالعزیز خان کا کہنا تھا ’اس کے بعد آہستہ آہستہ اور بہت احتیاط کے ساتھ ہم نے اس مقام پر پہنچنا شروع کر دیا، جہاں پر وہ ناسور موجود تھا۔ اس کے لیے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑا تھا۔ ایک ایک کر کے ہم ان مراحل کو بہت احتیاط سے طے کرتے جا رہے تھے۔
’یہ ایک بہت مشکل بلکہ سنسی خیز آپریشن تھا جس میں ہمیں مریضہ کے جاری خون اور وقت پر بھی نظر رکھنا تھی۔ اسی طرح ہمیں خیال رکھنا تھا کہ سِسٹ کو ہٹاتے ہوئے خون بھی نہ بہے۔ عمر کے حساب سے زیادہ وقت کی بے ہوش بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس دوران ہمیں اپنا کام اس احتیاط سے مکمل کرنا تھا کہ مریضہ زندگی کی طرف لوٹ آئے۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں ’ہم نے اس آپریشن کو کوئی تین گھنٹے میں مکمل کیا۔ دو گھنٹے کی کوشش کے بعد ہم اس کو مکمل طور پر نکال چکے تھے۔ اس موقع پر ہمیں اینستھیزیولوجسٹ نے بھی بتایا کہ مریضہ کے تمام اعضا ٹھیک کام کر رہے ہیں۔
’بس یہ وہ مرحلہ تھا جب ہمیں پتا چلا کہ ہمارا آپریشن کامیاب ہو گیا ہے۔ ان کے دماغ میں سے سسٹ کو مکمل طور پر نکال کر صفائی کی گئی۔ مریض کو 24 گھنٹے تک آئی سی یو میں رکھا اور پھر وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔‘

ہائڈیٹِڈ سِسٹ کیا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز خان کہتے ہیں کہ ہائڈیٹِڈ سسٹ عام طور پر ایک کیڑے کی وجہ سے دماغ میں یا جسم کے کسی دوسرے حصے میں بنتا ہے۔ یہ کیڑا یا مرض گندگی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ عموماً اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سلاد، سبزیاں اور پھل صاف کر کے نہ کھائے جائیں۔ عموماً سلاد اور سبزیوں پر کتے اور سُؤر کے پاخانے کے کچھ اجزا موجود ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سلاد اور سبزیاں مناسب انداز میں دھو کر نہ کھائی جائیں تو گند انسانی معدے میں پہنچتا ہے۔ معدے سے یہ آنتوں میں اور آنتوں سے خون میں شامل ہو کر دماغ میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کیڑے سے مرض ’اکانیا کاکس گرینالویس‘ بنتا ہے۔ جو انسان کو عملاً معذور ہی کر دیتا ہے۔ یہ دماغ میں ایک فٹ بال کی طرح بنتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز خان کا کہنا تھا کہ اس مرض کی شدت اگر زیادہ ہو جائے تو پھر اس کا علاج یا آپریشن بھی تقریباً ناممکن ہوتا ہے اور ان کے مطابق اس میں وقت کی بھی بہت اہمیت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کیس ہسٹری سے بھی پتا چلا کہ مریضہ کھیتوں سے سلاد اور سبزیاں توڑ کر کھا لیا کرتی تھیں۔ غالباً وہ ان کو تازہ سمجھا کرتی تھیں۔ جس وجہ سے وہ اس مرض کا شکار ہوئی تھیں۔‘

Views= (195)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین