عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم، پاکستانیوں کو فائدہ کب پہنچے گا؟

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد پاکستان میں یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے لیکن ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی امید لگانا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ منگل کو عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت 10.77 ڈالر فی بیرل یعنی 9.5 فیصد کم ہو کر 102.73 ڈالر پر آگئی تھی۔ اس کے علاوہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 9.30 ڈالر یعنی 8.6 فیصد کم ہو کر 99.13 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ امید ظاہر کی جانے لگی کہ پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں واضح اعلان کیا تھا کہ ’عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو پاکستان میں بھی کم کر دی جائیں گی۔‘ تاہم آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ترجمان کا کہنا ہےکہ ’عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ایک دو دن کے لیے نیچے آنے سے مجموعی طور پر قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘ ’عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی 15 روز کے لیے قیمتوں کا اوسط نکالا جاتا ہے اور جو اوسط قیمت سامنے آتی ہے اسی کے حساب سے دیگر اخراجات اور ٹیکس وغیرہ ڈال کر مقامی سطح پر قیمت کا تعین کیا جاتا ہے۔‘ ان کے مطابق ’اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آتی رہیں اور 15 دن تک نیچے کی طرف ہی رجحان رہتا ہے تو اس کے بعد ہی امکان ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوں۔‘ پاکستانی صارفین کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان میں حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر پیٹرولیم لیوی بھی عائد کر چکی ہے جو یکم جولائی کو 10 روپے فی لیٹر عائد ہوئی تھی اور اگر اگلے ماہ عالمی مارکیٹ کے مطابق پانچ دس روپے ریلیف ملنا بھی ہوا تو پیٹرولیم لیوی میں دب جائے گا اور قیمتوں میں کمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔‘

Views= (152)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین