شہباز گل کےمزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، ڈرائیور کی اہلیہ کی رہائی کا حکم

پاکستان کی فوج کے اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے عدالت میں پیش کر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو مسترد کر دی گئی ۔
جمعے کی صبح جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے پراسیکیوٹر اور ملزم کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھاجو ساڑھے دس بجے سنایا گیا۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ سلمان بدر نے شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ سائرہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ان کی ضمانت 30 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔

قبل ازیں شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ ان کو پولیس نے ساری رات جگائے رکھا اور تشدد کیا۔ ’مجھ پر تشدد کیا جاتا ہے، نشانات موجود ہیں۔ فزیکل چیک اپ نہیں کیا گیا اور وکلا سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا۔‘ شہباز گل نے قمیض اٹھا کر عدالت کو اپنی کمر دکھائی اور کہا کہ مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور میڈیکل نہیں ہوا، میرا فرضی میڈیکل اپنی مرضی سے بنایا گیا ہے۔
شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ وہ اپنی افواج کے بارے میں ایسی کوئی بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ’میں پروفیسر ہوں کرمنل نہیں ہوں، مجھے تھانہ کوہسار میں نہیں رکھا گیا۔‘
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے عدالت میں کہا کہ شہباز گل کے ڈرائیور کو بنی گالہ چھپایا ہوا ہے جس کے پاس فون ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل کے پاس ٹرانسکرپٹ تھا جو پڑھا گیا یہ نہیں بتا رہے کہ کون ان کے پیچھے ہے۔ ان کا پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے کہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ ہے۔‘
شہباز گل کی ٹی وی پر کی گئی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے پڑھنے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فوج کے اندر مختلف رینکس کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ تفتیش کا مقصد یہ ہے کہ ہم شواہد اکٹھے کرنا چاہتے ہیں۔
کیس کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ’پہلے ریمانڈ میں ہم کہہ رہے تھے اس کا ٹرانسکرپٹ اصلی ہے یا نہیں۔ ہم نے ابھی دیکھنا ہے پروگرام کے پیچھے پروڈیوسر کون تھا۔‘
جہانگیر جدون نے عدالت میں کہا کہ ملزم سے موبائل، لیپ ٹاپ برآمد کرنا ہے۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’استدعا ہے ملزم ہائی پروفائل ہے ہم نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے، ہمیں چار پانچ دن دیں تاکہ پنجاب فرانزک لیب سے پولی گرافک ٹیسٹ کرائیں۔ ہم نے پیمرا کو بھی لکھا ہے ہو سکتا ہے ملزم کو کراچی لے جانا پڑے۔
پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم موبائل فراہم کرنے میں بھی تعاون نہیں کر رہا۔ آڈیو کا فرانزک کیا ہے ٹی وی پر آواز شہباز گل کی ثابت ہو گئی ہے۔
شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ ’تشدد کے نشانات کپڑوں پر نہیں بلکہ کمر پر ہیں۔ یہ میڈیا پر چلا رہے ہیں اور ان کے وظیفہ خوار صحافی کہہ رہے ہیں دوران تفتیش شہباز گل قومی ترانہ پڑھنا شروع ہو گئے۔‘
شہباز گل نے دوسری بار روسٹرم پر آ کر کہا کہ ’مجھ سے بار بار سوال ہوتا ہے کہ عمران خان نے آپ کو کہا تھا اور میں کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔‘
عمران خان کے چیف آف سٹاف کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ’مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ جنرل فیض سے کتنی بار ملے ہو۔مجھ سے پوچھا جاتا ہے سابق وزیراعظم عمران خان کھاتے کیا ہیں،
پیشی کے موقع پر علی نواز اعوان، راجہ خرم نواز، کنول شوزب اورتحریک انصاف کے دیگر رہنما موجود تھے۔

Views= (1045)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین