شاتم رسول ملعون سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ، نبض ابھی چل رہی ہے

امریکا میں ملعون سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ ہوا جس کے نتیجے میں شدید زخمی ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق شاتمِ رسول سلمان رشدی پر حملہ امریکی ریاست نیویارک کے علاقے شوٹاکوا میں اس وقت ہوا جب وہ ایک تقریب سے خطاب کیلئے اسٹیج پر پہنچا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے کہا ہے کہ ان کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کے جگر کو بھی نقصان پہنچا ہے، بازو کے اعصاب کٹ گئے ہیں اور ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔‘ جبکہ گردن پر دائیں جانب ایک بڑا زخم موجود ہے۔
سٹیج پر حملے کے بعد رشدی کا کافی خون بہہ گیا تھا لیکن لوگ کہہ رہے تھے کہ نبض چل رہی ہے۔
گورنر نیویارک کیتھے ہوچل کا کہنا ہے کہ ملعون مصنف سلمان رشدی زندہ ہے۔ اس بات کی تصدیق انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کی۔
یاد رہے کہ سلمان رشدی کا نام اس وقت سرخیوں میں آیا جب ملعون نے سنہ 1988 میں ’شیطانی آیات‘ کے نام سے ناول شائع کیا تھا۔ اس پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جبکہ ایران کی طرف سے قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔
75 سالہ سلمان رشدی انڈیا کے ایک تاجر کا بیٹا ہے۔ اس نے انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی جبکہ کیمبرج یونیورسٹی سے تاریخ کے مضمون میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔
پولیس نے حملہ آور کی شناخت 24 سالہ ہادی ماتر کے نام سے کی ہے۔ پولیس نے حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اس نے کیوں حملہ کیا۔ حملہ آور ماتر کی پیدائش ’شیطانی آیات‘ کے شائع ہونے کے ایک دہائی بعد ہوئی تھی۔

Views= (746)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین