عمران خان کی قانونی جنگ میں انہیں اصل خطرہ کہاں سے ہے؟

پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت سیاسی محاذ پر مشکلات کے ساتھ ساتھ متعدد قانونی چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہیں۔ اگلے ہفتے سے الیکشن کمیشن میں ان کے خلاف تین اہم کیسز کی سماعت شروع ہو رہی ہے۔ جن میں ممنوعہ فنڈنگ کی وصولی، پارٹی اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنا، غلط سرٹیفکیٹ جمع کروانا اور اپنے سالانہ گوشواروں میں توشہ خانہ تحائف کی آمدنی کو ظاہر نہ کرنا شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن میں پی ڈی ایم کے ایم این ایز کی جانب سے سپیکر آفس نے ایک اور ریفرنس بھی جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے دوست ممالک سے توشہ خانہ میں حاصل ہونے والے بیش قیمت تحائف کو الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اپنے سالانہ گوشواروں میں دو سال تک ظاہر نہیں کیا ہے اور یہ تحائف صرف سال 2020-21 کے گوشواروں میں اس وقت ظاہر کیے گئے جب توشہ خانہ سکینڈل اخبارات کی زینت بن گیا۔ مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کی طرف سے جمع کروائے گئے اور سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس میں اثاثے چھپانے پر عمران خان کی نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔

قانونی ماہرین نے توشہ خانہ کے تحائف کو گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کو عمران خان کے لیے مشکل ترین کیس قرار دیا ہے۔
عمران خان کے مختلف کیسز میں وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ تکنیکی بات یہ ہے کہ توشہ خانہ والی بات سنجیدہ ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے ہر ممبر کو ہر سال الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع کروانے ہوتے ہیں اور شاید عمران خان نے اس میں توشہ خانہ تحائف کا ذکر نہیں کیا اور بعد میں اس میں تصحیح کروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس سابق سینیٹر فیصل واوڈا جیسا ہے جس میں انہیں حلف نامے میں غلط حقائق لکھنے پر نااہل کر دیا گیا تھا۔
تاہم شاہ خاور کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا ذکر سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تاہم آئین میں اس طرح نہیں لکھا بلکہ اس شق میں لکھا ہے کہ ایم این اے ہونے کے لیے جو اہلیت ہے اس میں صادق اور امین ہونا بھی ضروری ہے۔ تاہم اس میں نااہلی کا ذکر نہیں ہے بلکہ نااہلی کا ذکر آرٹیکل 63 میں ہے جہاں صادق اور امین ہونے کا ذکر نہیں۔
شاہ خاور کا کہنا تھا کہ نااہلی کے لیے ضروری ہے کہ کوئی قانون کی عدالت یہ قرار دے کہ فلاں رکن اسمبلی صادق اور امین نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن قانون کی عدالت نہیں ہے۔
دوسری طرف سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق توشہ خانہ کے تحفے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے بعد عمران خان سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوائے گئے ریفرنس میں نااہلی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بھی عمران خان کے خلاف کیسز کی رینکنگ کی جائے تو توشہ خانہ تحائف کا گوشواروں میں ذکر نہ کرنا سرفہرست ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کیس بھی بالکل ایسا ہی تھا جس کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ 2017 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے بیٹے کی کمپنی ایف زیڈ ای سے قابل ادائیگی رقم ظاہر نہ کرنے پر نااہل کر چکی ہے۔

Views= (234)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین