نسوانی حسن میں بھارتی خواتین مغرب کی تقلید کرنے لگیں، چھاتی کی سرجری میں اضافہ

بھارتی خواتین کو اپنے قدرتی خدوخال پر شرمندگی کا سامنا ہے، اسی وجہ سے بھارت میں ”بریسٹ ریڈکشن سرجری“ کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں ڈیوائن ایستھیٹکس سرجری کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر امیت گپتا کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں خواتین کی جانب سے نسوانی حسن میں تبدیلی کیلئے چھاتی کی سرجری میں سالانہ 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اندازے کی مزید تائید ڈاکٹر اکانشا گوئل اور ڈاکٹر سدھانشو پونیا نے بھی کی، جو نئی دہلی میں بریسٹ ریڈکشن سرجری کے ماہرین ہیں۔
ڈاکٹر پونیا کہتی ہیں کہ ’پہلے ہم ہر ماہ ایک سرجری کرتے تھے، لیکن اب ہم ہفتے میں کم از کم ایک سرجری کرتے ہیں، اور ہر ماہ تقریباً چار سے چھ کیسز نمٹاتے ہیں‘۔
ڈاکٹر گپتا نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ سرجری کروانے والوں میں ”نوجوان لڑکیوں“ کی تعداد زیادہ ہے۔
لیکن سرجریوں کی تعداد میں اچانک اضافہ کیوں ہوا؟
ماہرین نے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں، جن میں سب سے پہلے ”مغربی اثر“ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم ہندوستانی روایتی طور پر اپنی ساڑھیوں اور کرتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے مغربی ثقافت بشمول انے پہناوے اور لباس سمیت بہت سے پہلوؤں کو بھی اپنا لیا ہے۔
ڈاکٹر گپتا کہتے ہیں کہ ’کپڑوں کی ترجیحات ٹی شرٹس اور چست لباس کی طرف منتقل ہو گئی ہیں، جن سے سینے کے حصے کو بہت کم سہارا ملتا ہے، جس کی وجہ سے بھاری سینے والی خواتین میں گردن اور کندھے میں درد ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق، ایک اور وجہ خواتین کی ’پسندیدہ مغربی لباس‘ پہننے کی خواہش ہے، جو ان سرجریوں سے گزرنے والی تقریباً تمام خواتین میں عام ہے۔
ڈاکٹر گپتا مزید کہتے ہیں کہ ’’اب، بھاری سینے کی وجہ سے ہونے والے درد میں مبتلا ہونے کے بجائے، خواتین ان سرجریوں پر پیسے خرچ کرتی ہیں تاکہ انہیں مزید گردن یا کمر کے درد کو برداشت نہ کرنا پڑے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’سرجریوں کے بعد، میں نے مریضوں کو نتائج دیکھ کر روتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے سینے سے کوئی بھاری بوجھ اٹھا لیا گیا ہو‘۔
اس کے علاوہ ماہرین نے سوشل میڈیا کو بھی کواتین کے اس تکلیف دہ عمل سے گزرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا، ان کے مطابق سوشل میڈیا نظر آنے والے ان رجحانات کی تشکیل میں ایک اہم عنصر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے خاص طور پر ہندوستان میں کچھ رجحانات کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مثال کے طور پر، ڈاکٹر گوئل بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے عروج کے باعث میرے مریضوں نے دوسروں کو اسی طرح کے طریقہ کار سے گزرتے ہوئے دیکھا اور پھر خود بھی یہ کروانے کا فیصلہ کیا۔
اس کے علاوہ خواتین کو سوشل میڈیا پر موجودگی کی وجہ سے بدسلوکی اور جسمانی شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جہاں طرح طرح کے تبصروں کے زریعے ان کے جسمانی خدوخال کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
سرجری کے ضمنی اثرات
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سرجریوں سے کسی قسم کے مضر اثرات کے بہت کم امکانات ہیں، لیکن کچھ اثرات ہیں جن کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
جیسے کہ سرجری کے بعد کچھ نشانات رہ جاتے ہیں جو بدنما لگتے ہیں، یہ وقت کے ساتھ کم تو ہوجاتے ہیں لیکن ختم نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ بریسٹ ریڈکشن سرجری سے گزرنے والے کچھ خواتین احساس میں عارضی یا مستقل تبدیلیوں کا تجربہ کر سکتی ہیں، بشمول بے حسی یا انتہائی حساسیت۔
کچھ خواتین کو سرجری کے بعد بچوں کو دودھ پلانے میں دشواری کا سامنا کربنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سرجری کے بعد ناہمواریت کا امکان بھی ہے۔
کسی بھی سرجری کی طرح، اس سرجری میں بھی انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے، جس کے لیے اینٹی بائیوٹک علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Views= (631)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین