اسپیکر پنجاب اسمبلی نے گندم خریداری کمیٹی قائم کردی، پرانی پالیسی مسترد

پنجاب اسمبلی میں حکومتی اوراپوزیشن ارکان نے گندم پالیسی پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار کردیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے صوبے میں گندم خریداری سے متعلق 3 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ ایوان نے 6 ایکڑ تک گندم خریدنے کا حکومتی اقدام بھی مسترد کردیا۔
تفصیلات کے مطابق، اسپیکرملک احمد خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں گندم خریداری کے معاملے پر وزیر خوراک بلال یاسین ایوان کو مطمئن کرنےمیں ناکام رہے۔
حکومت اور اپوزیشن اراکان نے کسانوں کےمعاملے پریک زبان ہوکر گندم پالیسی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خوراک نےآج ایوان کو اس معاملے پر بریفنگ دینا تھی مگر ان کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہی ہے۔۔اپوزیشن نے اگلےسیشن کا بائیکاٹ کرنےکی بھی دھمکی دے دی۔
حکومت اوراپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے صرف 6 ایکٹر والے کسانوں سے خریدنی ہے تو باقی گندم کون خریدے گا، گندم کیوں امپورٹ کی گئی اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں، حکومت کو فنڈز کا مسئلہ ہے تو وہ کسانوں کو ادائیگی موخر بھی کر سکتی ہے۔
محکمہ خوراک گندم خریداری کا عمل ہفتہ سے شروع کرے گا
وزیرخوراک بلال یاسین نے ایوان کو بتایا کہ ایپ پربار دانے کے لیے ڈیڑھ لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، گندم اعلان کردہ پالیسی کے مطابق خریدی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کسان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
پنجاب اسمبلی میں گندم کی خریداری اور بحران کے حوالے سے بحث کے بعد ایوان نے 4 نکات پر اتفاق کرلیا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بحث کے اختتام پر کہا کہ آج ہاؤس نے 6 ایکٹر تک گندم خریدنے کی پالیسی کو مسترد کیا ہے، اگر ان سے گندم خریدیں گے تو باقی کسانوں کا کون پرسان حال ہوگا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ بتائیں کہ گندم امپورٹ کیسے ہوئی اور کیوں کی گئی، یہاں پر کسان دھکے کھا رہا ہے، ہم اگر ان کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا، ہم ہی ان کا خیال رکھیں گے۔
اسپیکر محمد احمد خان نے مجتبیٰ شجاع اور بلال یاسین سمیت 3 ارکان پرمشتمل گندم خریداری کی کمیٹی بنا کر پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل صبح 9 بجے تک ملتوی کر دیا۔

Views= (421)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین