غزہ پالیسی پر شدید اختلاف کے باعث امریکی سفارت کار و ترجمان مستعفی

فلسطین کے حوالے سے امریکی پالیسی سے شدید اختلافات کی بنیاد پر امریکی سفارت کار اور ترجمان ہالا رہاریت مستعفی ہوگئیں۔ انہوں نے سفارت کار کی حیثیت سے 18 سال تک امریکی محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دیں۔ مستعفی ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتِ حال کے حوالے سے میں امریکا سے مزید نفرت کا سبب بننے کی خواہش مند نہیں۔
ایک انٹرویو میں ہالا رہاریت نے کہا کہ امریکی پالیسیوں پر گفتگو میں کبھی الجھن محسوس نہیں ہوتی تھی مگر غزہ کی صورتِ حال نے سب کچھ بدل دیا۔ محکمہ خارجہ کے ماحول میں غزہ کے حوالے سے شدید خوف پایا جاتا ہے۔ لوگ غزہ کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ خارجہ غزہ کے حوالے سے جن نکات پر بات کرنے کا کہتا تھا وہ مشتعل کردینے والے تھے۔ فلسطینیوں کو نظر انداز کیا جارہا تھا، ان کے حالِ زار پر بات ہی نہیں ہوتی تھی۔
ہالا رہاریت کا کہنا تھا کہ اب ایک بڑا خدشہ اس بات کا ہے کہ یتیم فلسطینی بچے ہتھیار اٹھاکر انتقام لینے پر نہ تُل جائیں۔ امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں نفرت پنپ رہی ہے۔ جو کچھ بھی ہم فلسطین میں دیکھ رہے ہیں وہ ہماری نفسی ساخت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ماں فلسطینی بچوں کی لاشیں دیکھے اور دکھی نہ ہو؟ اصل میں دکھ دینے والی بات یہ تھی کہ فلسطینی بچوں کو شہید کرنے والے بم ہمارے تھے۔ ہلاکتیں بڑھنے پر بھی ہم اسرائیل کو اسلحہ دے رہے تھے۔
ہالا رہاریت کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے موجودہ امریکی پالیسی محض پاگل پن ہے کیونکہ اسلحے سے زیادہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

Views= (351)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین