پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کی استدعا مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی ) نےپی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ دیں گے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریفرنس کی سماعت کی۔
پی ٹی آئی نے ارکان قومی اسمبلی کے منحرف ہونے سے متعلق مٹیریل الیکشن کمیشن میں پیش کردیا، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور عامر ڈوگر کی جانب سے منحرف ارکان کے خلاف حلف نامے بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ریفرنس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل فیصل چوہدری نے جواب الجواب دینے کا موقف اپناتے ہوئے مزید مواد جمع کرانے کی استدعا کی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ٹریبیونل ہے جس کے سامنے مواد رکھنا ہے، میں نے جمع کرائے گئے بیان حلفی کی تصدیق کرانی ہے، مجھے مواد رکھنا ہے جس پر ڈکلئریشن بنایا گیا، مجھے بتانا ہے کہ چئیرمین کو کیا بھیجا گیا، یہ کیس سپریم کورٹ میں بھی چل رہا ہے، اگر جوابدہ مواد جمع کرا سکتے ہیں تو مجھے بھی مواد جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکلا نے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کی استدعا کی تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اونچی آواز میں بات کر کے تاریخ نہیں لی جاسکتی، پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ دیں گے۔
اس موقع پر منحرف اراکین کے وکیل نے مزید مواد پراعتراض کرتے ہوئے پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونےپرفیصلہ دینے کا موقف پیش کیا۔
چیف الیکشن کمیشن نے ریفرنس کے ساتھ شواہد نہ جمع کرانے کی وجہ دریافت کی تو فیصل چوہدری نے کہا کہ شواہد ممبران کے لیے نہیں، الیکشن کمیشن کےلئے تھے۔
دوران سماعت الیکشن کمیشن کے بینچ میں موجود سندھ کے ممبر کے استفسار کرنے پر پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ منحرف ارکان نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیارکی جس پر پارٹی کی جانب سے انہیں شوکازنوٹسزجاری کیے گئے۔
دوران سماعت منحرف ارکان پنجاب اسمبلی نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کروایا۔
پی ٹی آئی کے میٹیریل پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے منحرف رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب ڈیکلیریشن الیکشن کمیشن کو موصول ہوچکا ہے تو اب کیوں نیا میٹیریل لگایا جارہا ہے۔
نور عالم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ایسے مواد دیں گے تو کیس تو تیس دن میں نہیں ختم ہو سکتا، یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔
نور عالم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں کہا گیا منحرف ارکان نے اپوزیشن جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی، کونسی جماعت میں شمولیت اختیار کی، یہ نہیں بتایا گیا، یہ ریفرنسز بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں، ان کو اب شواہد دینے کا وقت نہ دیا جائے، یہ ریفرنسز کے ساتھ شواہد جمع کراتے۔
الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نے فیصل چوہدری سے سوال کیا کہ کیا منحرف ارکان نے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کی؟
جس پر ان کا کہنا تھا کہ جی انہوں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کی، دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرنے پر شوکاز نوٹسز جاری کئے،ان منحرف ارکان کو شوکاز دیکر جوابدہی کا موقعہ دیا گیا، کچھ ارکان نے جواب نہیں دیا اور کچھ پیش نہیں ہوئے۔
منحرف ارکان کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ریفرنس پر ارکان کو جواب دہی کا موقعہ نہیں دیا گیا۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وقت محدود ہے ہم روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنا چاہتے تھے۔
اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کمیشن پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کرے گا، اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
اس موقع پر فیصل چودہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پہلے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کا فیصلہ سنا دے، وہ 26 منٹ کا کیس ہے، درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ سنا دیں ایک گھنٹے میں شواہد اور دلائل دوں گا۔
چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجا نے کہا کہ منحرف ارکان اسمبلی کے دلائل جمعہ کو سنیں گے اور سماعت 13 مئی تک ملتوی کردی۔
فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اب تو الیکشن کمیشن سے ٹائم مانگتے ڈر لگتا ہے، میڈیا والے پوچھتے ہیں کہ پتا نہیں کیوں ٹائم مانگا اور تنقید بھی ہوتی ہے، اب تو ٹائم مانگتے ہوئے بھی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔

Views= (107)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین