لاہور سے اغوا ہونے والی طالبہ عارف والا سے بازیاب؛ دو ملزم گرفتار

لاہور کے علاقے شادباغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کو بازیاب کرلیا گیا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے بھی ازخود نوٹس کی درخواست نمٹا دی ہے۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نے طالبہ کی بازیابی کی تصدیق کی۔
پولیس کے مطابق طالبہ کے اغوا میں ملوث ملزمان عابداورالیاس کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اورلڑکی تفتیشی ٹیم کے ساتھ ہیں اور جلدلاہور پہنچ جائیں گے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے شادباغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کی بازیابی کیلئے نوٹس کی دوبارہ سماعت کی۔
بازیاب بچی کے والد بھی عدالت میں موجود تھے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بچی برآمد ہو چکی ہے اور میری بچی سے بات ہو گئی ہے۔
پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ لڑکی عارف والاسے بازیاب ہوئی ہے۔
عدالت نے والد سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی بچی سے بات ہوئی ہے؟ اس پر والد نے کہا کہ جی میری بچی سے بات ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بچی پولیس کی تحویل میں واپس آ رہی ہے تو بچی کا خیال رکھیے گا۔
عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ کیس کی جلد تفتیش مکمل کیجیے گا، یہ آپ کیلئے بھی اتنااعزاز ہے جتنا میرے لیے، میں ابھی یہ از خود نوٹس نمٹارہا ہوں، آپ سب کا بہت شکریہ۔
چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ کا کہنا تھاکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سماعت میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے حکم دیا تھاکہ شادباغ سے اغوا ہونے والی 10 ویں جماعت کی طالبہ کو 10 بجے تک بازیاب کرایا جائے ورنہ وزیراعظم کو سب کو نوکری سے ہٹانے کا کہوں گا۔
واضح رہے کہ 10 ویں جماعت کی طالبہ گزشتہ روز امتحان دے کر اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر واپس گھر جارہی تھی کہ چار مسلح ملزمان طالبہ کو اغوا کرکے گاڑی میں لے گئے تھے۔
میڈیا سے گفتگو میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کا کہنا تھاکہ طالبہ کو اس کے سابقہ منگیتر نے اغوا کیا تھا۔
سی سی پی او کا کہنا تھاکہ واقعےکے بعد فون بند کرلیےگئے جس کی وجہ سے بازیابی میں تاخیر ہوئی۔
پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں میٹرک کی طالبہ نے بتایا کہ مرکزی ملزم عابد اسے پاکپتن لے جا کر زبردستی نکاح کی کوشش کی۔ جب نکاح سے انکار کیا تو مجھ پر تشدد کیا گیا، ملزم عابد یا اس کے کسی ساتھی نے زیادتی نہیں کی۔
لڑکی نے بتایا کہ اغوا کے بعد ملزمان مجھے قصور لے گئے تھے، ملزم فون پر کسی وکیل سے بار بار بات کرتا رہا اور ملزمان پولیس کے آنے سے پہلے مجھے پاکپتن لے گئے، ملزمان نے قصور سے نکلتے وقت اپنا فون بند کر دیا تھا۔
طالبہ نے بتایا کہ ملزمان نے مجھے عارف والا کے ایک بس اڈے پر چھوڑ دیا جہاں پولیس پہنچی۔

Views= (701)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین