گرفتاری ’اغوا اور لاپتہ ‘کیس قرار ؛ شیریں مزاری نے تفصیلات سے آگاہ کردیا

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حالیہ گرفتاری کو ‘اغوا اور لاپتہ’ کیے جانے کا کیس قرار دیتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ‘گومل روڈ پر روکا، گاڑی سے کھینچا اور ایک مرد نے آکر میرے ہاتھ سے فون کھینچا جب پولیس خواتین گھسیٹ کر باہر لے آئیں، اینٹی کرپشن یا آئی ایس آئی کی تھی مجھے کیا پتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پنجاب اینٹی کرپشن کو میرا فون کیوں چاہیے ہوگا، ہائی کورٹ کے حکم کے بعد آدھی رات کو مجھے ملا لیکن اس کے ساتھ اور میرے بٹوے کے ساتھ جو ہوگیا تھا وہ نا ہی پوچھیے لیکن میں نے بھی کافی سنایا‘۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ‘مجھے یہ پتہ چلا تھا چکری کے بعد ہم رکے ہیں تو مجھے واش روم جانا تھا اور باہر نکلے تو میں نے کہا کہ آپ کی گاڑی میں نہیں بیٹھ رہی اور وہاں چند 10، 12 لوگ کھڑےتھے تو میں نے کہا یہ مجھے گرفتار کرکے پتا نہیں کہاں لے کر جارہے ہیں تو میں نہیں بیٹھ رہی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘پھر انہوں نے پیغام دکھایا کہ ہم واپس مڑ رہے ہیں کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا ہے، درحقیقت ان کی سازش یہ تھی کہ اسلام آباد سے نکل کر لاہور یا پنجاب کی حدود میں آجائیں کیونکہ ان کو پتا تھا کہ یہاں ریلیف مل جائے گا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کا رویہ بہتر نہیں تھا، گاڑی سست کی اور پھر 15 منٹ بعد تیز چلائی تو پھر میرے ذہن میں آیا اور میں نے کہا کہ اگر مجھے یہی قتل کرنا ہے تو جلدی کردو اور یہاں کہیں اور لے کر جانا ہے تو لے جاؤ فیصلہ تو کرو ’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بعد میں مجھے پتہ چلا وہ کاغذی کارروائی کے لیے مجسٹریٹ ڈھونڈ رہے تھے جو ان کو ملا نہیں، مجھے پتا تھا کہ انصاف ملنا ہی، اچھا ہوا اگر ڈی جی خان یا لاہور مڑتے تو پھر مسئلہ ہونا تھا’۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میری بیٹی ایمان زینب مزاری اس واقعے پر بہت پریشان ہوئی تھی اور انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میری بیٹی اپنی والدہ کی گمشدگی پر پریشان تھی، انہوں نے پریس کانفرنس کی جہاں انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لیا اور مخصوص الفاظ استعمال کیے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اب کہتے ہوئے درخواست اور ایف آئی آر درج کی جارہی کہ وہ قومی مفادات کے خلاف ہیں اور یہ دہشت گردی ہے’۔
شیریں مزاری نے کہا کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت مزاری فوبیا ہوگیا ہے’۔
کرپشن کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ‘سیاسی انتقام’ ہے کیونکہ مجھے الزام کے حوالے سے کبھی نہیں بتایا گیا یا وضاحت پیش کرنے کا بھی نہیں کہا گیا اور میرا نام صرف تفتیشی کے دوران گردش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں جو اینٹی کرپشن پنجاب میں تھے پھر وہ اسلام آباد آئے تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ اسٹیبلشمنٹ پر ہاتھ ہولا رکھیں کیونکہ آپ کے خلاف کچھ مقدمات ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص نے بتایا کہ جب وہ اینٹی کرپشن پنجاب میں تھے تو چند کیسز تھے جن کو روکا تھا کہ یہ غلط ہیں لیکن مجھے فون آئے کہ آپ معاملے سے ہٹ جائیں۔
شیریں مزاری نے کہا کہ میں پھر سے کہتی ہوں کہ آپ خود سمجھ جائیں کہ کدھ سے ہدایات اور دباؤ آیا تو جب مجھے گرفتار کیا تو فون کس نے کھینچا، یہ سوال اٹھتا ہے، میرے فون کی کس کو ضرورت تھی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کو معلومات چاہیے ہوں گی اینٹی کرپشن کو میرے فون سے کوئی معلومات نہیں ملنی تھیں۔
شیریں مزاری نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ حکومت میں بطور انسانی حقوق کی وزیر انہیں لاپتہ افراد کے حوالے سے بل پر انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈکوارٹرز میں طلب کیا گیا تھا۔

Views= (111)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین