وہ کابینہ اراکین جن کے پاس وزارت نہیں پھر بھی سرکاری لگژری گاڑیاں

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن میں پیش کی گئی حکومت کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ کابینہ میں شامل 11 مشیران اور معاونین خصوصی ایسے ہیں جن کے پاس کسی وزارت کا قلمدان نہیں ہے تاہم انہیں کابینہ ڈویژن نے 1800 سی سی گاڑیاں دے رکھی ہیں۔
گزشتہ تین سال میں ان گاڑیوں کے پٹرول اور مرمت پر تین کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔
کابینہ ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ’اس وقت ہمارے پاس عمومی استعمال میں مجموعی طور پر 30 گاڑیاں ہیں جن میں 800 سی سی کلٹس سے لے کر 1600 سی تک کی کاریں، جبکہ 2800 سی سی اور 3600 سی سی کی کوسٹرز ہیں۔‘
کابینہ ڈویژن کے مطابق 1800 سی سی کی 11 گاڑیاں ہیں جو مشیران اور معاونین خصوصی کے زیر استعمال ہیں جن کے پاس وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا عہدہ تو ہے لیکن ان کے پاس کسی وزارت کا قلمدان نہیں ہے۔
’کیونکہ جب کسی مشیر یا معاون خصوصی کو کسی وزارت یا ڈویژن کا قلمدان مل جاتا ہے تو اسے اپنی وزارت کی جانب سے کار مہیا ہو جاتی ہے تاہم جن کے پاس کوئی وزارت نہیں ہوتی اسے کابینہ ڈویژن کی جانب سے گاڑی فراہم کی جاتی ہے۔‘
کمیٹی نے جب استفسار کیا کہ یہ گاڑیاں کن کن شخصیات کے زیر استعمال ہیں تو کابینہ ڈویژن کی جانب سے یہ تفصیل فراہم کرنے سے معذرت کی گئی۔
تاہم کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر موجود مشیران اور معاونین خصوصی کی فہرست پر نظر دوڑائیں تو جن کے پاس اس وقت تک کوئی قلمدان نہیں ہے ان میں یار محمد رند، شہباز گل، ملک عامر ڈوگر، عثمان ڈار، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، ملک خالد منصور، شہزاد نواز، عون عباس بپی اور اعظم جمیل شامل ہیں۔
کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام گاڑیوں کی مکمل تفصیلات، وہ کس کے استعمال میں ہیں اور مرمت اور پٹرول وغیرہ پر کتنا خرچ آیا ہے اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
کمیٹی کے استفسار پر کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ اس وقت سینٹرل کار پول میں 91 وی وی آئی پی گاڑیاں ہیں۔ یہ گاڑیاں بیرون ملک سے پاکستان کے دورے پر آنے والے سربراہان مملکت و حکومت وزراء اور دیگر وی وی آئی پیز کے لیے کسی بھی متعلقہ وزارت کی درخواست پر فراہم کی جاتی ہیں۔
ان 91 گاڑیوں میں 30 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ حال ہی میں او آئی وزرائے خارجہ اجلاس میں وزارت خارجہ کی درخواست پر یہ گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔
اس موقع پر انچارج وزیر برائے کابینہ ڈویژن علی محمد خان نے کہا کہ ’میں عموماً بطور وزیر غیر ملکی مہمانوں کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہماری وی وی آئی پیز گاڑیاں پرانی ہیں۔ یہ گاڑیاں اہم ممالک کے سفارت خانے اپنی وی آئی پی شخصیات کے لیے استعمال نہیں کرتے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے اپنے پاس بہت جدید ماڈل کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ ہماری گاڑیاں پروٹوکول کے طور پر فراہم تو کی جاتی ہیں لیکن عموما وہ ان میں بیٹھتے نہیں ہیں۔‘
کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ ’اس طرح کے استعمال کے لیے آخری گاڑیاں 2016 میں خریدی گئی تھیں اور یہی اب تک کا سب سے اپ ماڈل ہیں۔‘
کمیٹی نے تمام وی وی آئی پیز کی گاڑیوں، ان کے استعمال اور سابق وزرائے اعظم اور صدور کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

Views= (67)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین